❮
❯
حدیث نمبر: 3150
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، ثَنَا مُكَبِّرُ بْنُ عُثْمَانَ ، ثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ الْمَذْحِجِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَنَى دِينَهُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَرْكَانٍ ، فَمَنْ لَمْ يَصْبِرْ عَلَيْهِنَّ وَلَمْ يَعْمَلْ بِهِنَّ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى مِنَ الْفَاسِقِينَ . قَالَ : وَمَا هُنَّ يَا أَبَا ذَرٍّ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يُسَلِّمُ حَلَالَ اللهِ لِلهِ ، وَحَرَامَ اللهِ لِلهِ ، وَأَمْرَ اللهِ لِلهِ ، وَنَهْيَ اللهِ لِلهِ ، لَا يُؤْتَمَنُ عَلَيْهِنَّ إِلَّا اللهُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الشَّوْكِ الْعِنَبُ ، كَذَلِكَ لَا يَنَالُ الْفُجَّارُ مَنَازِلَ الْأَبْرَارِ " .
ترجمہ

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے دین کی بنیاد چار ستونوں پر رکھی ہے، پس جس نے ان پر صبر نہ کیا اور ان کے مطابق عمل پیرا نہ ہوا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ فاسقوں (نافرمانوں) میں سے ہو گا۔ پوچھا گیا: اے ابو ذر! وہ (چار ستون) کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ یہ ہیں کہ «حَلَالَ اللهِ لِلهِ» ”اللہ کے حلال کردہ کو اللہ ہی کے لیے تسلیم کر لینا“، «حَرَامَ اللهِ لِلهِ» ”اللہ کے حرام کردہ کو اللہ ہی کے لیے مانا“، «أَمْرَ اللهِ لِلهِ» ”اللہ کے حکم کو اللہ ہی کے سپرد کر دینا“ اور «نَهْيَ اللهِ لِلهِ» ”اللہ کی ممانعت کو اللہ ہی کے سپرد کر دینا“، ان امور پر اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابوالقاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس طرح کانٹوں سے انگور نہیں چنے جا سکتے، بالکل اسی طرح بدکار لوگ نیکوکاروں اور پرہیزگاروں کے درجات و مقامات حاصل نہیں کر سکتے۔“
مسند ابی یعلی: 3150۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف جدًا، فيه ثلاث علل:، 1 - مُكَبَّر بن عثمان، وهو منكر الحديث جدًا.، 2 - إرسال يزيد بن مرثد.، 3 - الوَضِين بن عطاء، وهو ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»