المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ مساوئ الأعمال باب: بد اعمالیوں کی شناعت اور ان کے وبال سے ڈرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3149
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا فُرَاتُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الشَّوْكِ الْعِنَبُ ، لَا يَنْزِلُ الْفُجَّارُ مَنَازِلَ الْأَبْرَارِ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ ، فَأَيَّهُمَا أَخَذْتُمْ وَرَدَ بِكُمْ عَلَى أَهْلِهِ " .ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے جانی دوست ابو القاسم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس طرح کانٹوں کی جھاڑی سے انگور نہیں چنے جا سکتے، اسی طرح بدکار اور نافرمان لوگ نیکوکاروں کے مراتب و منازل حاصل نہیں کر سکتے؛ یہ دو بالکل الگ راستے ہیں، پس تم ان میں سے جس راہ کو بھی اختیار کرو گے، وہ تمہیں اسی راہ کے مسافروں اور اس کے (مقررہ) انجام تک پہنچا دے گی۔“
اس حدیث کی تخریج امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کے راوی ابو المہاجر کے حوالے سے محدثین کے اقوال مختلف ہیں جبکہ بقیہ رجال ثقہ ہیں۔