المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ مساوئ الأعمال باب: بد اعمالیوں کی شناعت اور ان کے وبال سے ڈرانے کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، ثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ إِنْسَانٍ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ : فَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ ، فَذَلِكَ مَالُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ فَذَلِكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ فَيَقُولُ : إِنْ كُنْتَ لَأَهْوَنَ الثَّلَاثَةِ عَلَيَّ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر انسان کے تین جگری دوست ہوتے ہیں؛ ایک دوست وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ جو کچھ تم نے (راہِ خدا میں) خرچ کر دیا وہ تمہارا ہے اور جو تم نے بچا کر رکھا وہ تمہارا نہیں ہے، اور یہ انسان کا مال ہے۔ دوسرا دوست وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، لیکن جب تم بادشاہ کے دربار (یعنی موت کی چوکھٹ) پر پہنچو گے تو میں تمہیں تنہا چھوڑ کر واپس پلٹ جاؤں گا، اور یہ اس کے اہل و عیال اور خدم و حشم ہیں۔ جبکہ تیسرا دوست وہ ہے جو کہتا ہے کہ تم جہاں بھی داخل ہو گے اور جہاں سے بھی نکلو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا، اور یہ انسان کا عمل ہے۔ (یہ صورتحال دیکھ کر) انسان کہتا ہے: اللہ کی قسم! تو ان تینوں دوستوں میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ بے وقعت اور کم تر تھا۔“
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند (2162) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عمران القطان کے حافظے میں کچھ کلام ہے، تاہم اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں جو اسے تقویت دیتے ہیں۔