المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ مساوئ الأعمال باب: بد اعمالیوں کی شناعت اور ان کے وبال سے ڈرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3147
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ هُوَ ابْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ " ، فَجَمَعَهُمْ فَكَانُوا بِالْبَابِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ ، إِيَّاكُمْ أَنْ يَجِيءَ النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ وَتَجِيؤُونَ بِالْأَثْقَالِ تَحْمِلُونَهَا عَلَى ظُهُورِكُمْ " .ترجمہ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”اپنی قوم کو میرے پاس جمع کرو۔“ چنانچہ انہوں نے انہیں اکٹھا کر لیا اور وہ سب دروازے پر حاضر ہو گئے، تو آپ ﷺ نے (ان سے مخاطب ہو کر) ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! تم میں سے میرے (حقیقی) دوست اور مقرب وہی ہیں جو متقی اور پرہیزگار ہیں، (پس) اس بات سے بچنا کہ (قیامت کے دن) لوگ تو اپنے (نیک) اعمال لے کر حاضر ہوں اور تم گناہوں کے بوجھ اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے آؤ۔“
[مصنف ابن ابی شیبہ: 3147، صحیح]۔