المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ المبادرة إِلَى الطاعة باب: اطاعت و فرمانبرداری کے کاموں میں جلدی اور پیش قدمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3146
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثَنَا أَبُو وَائِلٍ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ تَلَاطُخِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : " يَا ابْنَ آدَمَ قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ ، وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلْ إِلَيْكَ " .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے شریح کو ان احادیث کے (فتنوں کے سبب) باہم خلط ملط ہونے سے پہلے یہ حدیث بیان کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے ابنِ آدم! تو میری طرف (بندگی و اطاعت کے لیے) اٹھ کر آ، میں تیری طرف (رحمت و مغفرت کے ساتھ) چل کر آؤں گا، اور تو میری طرف چل کر آ، میں تیری طرف (تیزی اور نوازش کے ساتھ) دوڑ کر آؤں گا۔“
صحیح موقوف۔