المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالسُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي باب: قبلہ رخ ہونے اور نمازی کے آگے سترہ رکھنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا حُسَامُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مَحْذُورَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ( رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مِنْ قِبَلِ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ ، حَتَّى جَاءَ إِلَى وَجْهِ الْكَعْبَةِ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَطَّ بَيْنَ يَدَيْهِ خَطًّا عَرْضًا ، ثُمَّ كَبَّرَ فَصَلَّى ، وَالنَّاسُ يَطُوفُونَ بَيْنَ الْخَطِّ وَالْكَعْبَةِ ) .سیدنا ابراہیم بن ابی محذورہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ بنو شیبہ کے دروازے کی سمت سے مسجدِ حرام میں داخل ہوئے، یہاں تک کہ کعبہ کے سامنے تشریف لائے، پھر آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر اپنے سامنے چوڑائی میں ایک لکیر کھینچی، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہہ کر نماز شروع کی، جبکہ لوگ اس لکیر اور کعبہ کے درمیان سے گزر کر طواف کر رہے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں حسام بن عباد ضعیف ہے اور ابراہیم بن ابی محذورہ کے والد عبد العزيز بن عبد الملك بن أبي محذورة مقبول راوی ہیں۔