المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالسُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي باب: قبلہ رخ ہونے اور نمازی کے آگے سترہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 313
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعِيدًا مِنَ الْقِبْلَةِ ، فَقَالَ : تَقَدَّمْ ، لَا تُفْسِدْ عَلَيْكَ صَلَاتَكَ ، وَمَا قُلْتُ لَكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [يَقُولُهُ] .ترجمہ
اسحاق بن سوید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قبلہ کی سمت (یعنی صف کی درست جگہ) سے دور ہٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: ”آگے بڑھ کر کھڑے ہو، اپنی نماز کو اپنے حق میں خراب نہ کرو؛ اور میں نے تم سے وہی بات کہی ہے جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنی تھی۔“
اس حدیث کی تخریج امام حارث نے اپنی مسند (313) میں کی ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔