المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالسُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي باب: قبلہ رخ ہونے اور نمازی کے آگے سترہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 315
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ " . قُلْتُ : فَمَا يَسْتُرُنِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّهْمُ ، وَالرَّحْلُ ، وَالْحَجَرُ " .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عورت اور کتا (نمازی کے سامنے سے گزر کر) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کی: تو کون سی چیز مجھے (ان کے گزرنے کے اثر سے) محفوظ رکھے گی یعنی سترا بنے گی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تیر، اونٹ کا کجاوہ اور پتھر (بطورِ سترا استعمال کیے جا سکتے ہیں)۔“
اس روایت کی سند میں داود بن المحبر اور ابوہارون العبدی دونوں ضعیف راوی ہیں، اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم دیگر صحیح احادیث میں سترہ کی اہمیت اور اس کی مختلف اشیاء کا ذکر موجود ہے۔