المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ العمل الصالح فِي الزمن السوء باب: برے زمانے میں نیک عمل کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3139
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا حَيْوَةُ ، أَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " لَخَيْرٌ أَعْمَلُهُ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِثْلَيْهِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِأَنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُهِمُّنَا الْآخِرَةُ وَلَا تُهِمُّنَا الدُّنْيَا ، وَإِنَّا الْيَوْمَ قَدْ مَالَتْ بِنَا الدُّنْيَا " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”آج کے دن میں جو نیکی کرتا ہوں وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں کی جانے والی ویسی ہی دو نیکیوں سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے؛ کیونکہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے تو ہماری تمام تر فکر اور توجہ آخرت کی طرف لگی رہتی تھی اور دنیا کی ہمیں کوئی پرواہ نہ تھی، جبکہ آج دنیا ہم پر پوری طرح مائل ہو چکی ہے (اور ہم اس کی فتنہ سامانیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں)۔“
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔