❮
❯
حدیث نمبر: 3140
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ : حَدَّثَنَا فُلَانٌ ، رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ، وَتَبْقَى فِيكُمْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ ، وَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَتَبْقَى فِيكُمْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ ، وَيَقُولُونَ : أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَتَرَكْنَا فِيهِمْ رَجُلًا لَمْ يُصِبْهُ خَيْرٌ قَطُّ وَلَا بَلَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلِمَ أَنَّهُ مِنْكَ ، فَيَقُولُ : ابْتَلُوا عَبْدِي ، أَوْ زِيدُوا عَبْدِي ، قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَدْرِي بِأَيَّتِهِمَا بَدَأَ ، قَالَ : فَيَبْتَلُونَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : ابْتَلُوهُ ، فَيُبْتَلَى ، ثُمَّ يَقُولُ : ابْتَلُوهُ - وَهُوَ أَعْلَمُ - فَيَقُولُونَ : انْتَهَى الْبَلَاءُ أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : زِيدُوهُ فَيُزَادُ ، ثُمَّ يَقُولُ : زِيدُوهُ فَيُزَادُ ، ثُمَّ يَقُولُ : زِيدُوهُ فَيُزَادُ ثُمَّ يَقُولُ : زِيدُوهُ - وَهُوَ أَعْلَمُ - فَيَقُولُونَ : انْتَهَى الْمَزِيدُ أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عَبْدِي فِي الْبَلَاءِ ، وَكَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ فِي الرَّخَاءِ ؟ فَيَقُولُونَ : أَيْ رَبِّ أَصْبَرُ عَبْدٍ وَأَشْكَرُهُ ، فَيَقُولُ : اكْتُبُوا عَبْدِي مِمَّنْ لَا يُبَدَّلُ وَلَا يُغَيَّرُ حَتَّى يَلْقَانِي " .
ترجمہ

ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے ایک طویل حدیث ذکر کی جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے نمازِ عصر اور نمازِ صبح (فجر) میں جمع ہوتے ہیں، پھر دن کے فرشتے نمازِ عصر کے وقت (آسمان کی طرف) چلے جاتے ہیں اور تمہارے پاس رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اور رات کے فرشتے نمازِ صبح کے وقت اوپر چلے جاتے ہیں اور تمہارے پاس دن کے فرشتے رہ جاتے ہیں۔ وہ (اللہ کی بارگاہ میں) عرض کرتے ہیں: ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے، اور ہم نے ان لوگوں میں ایک ایسا شخص چھوڑا ہے کہ اسے کبھی کوئی بھلائی پہنچی ہو یا کبھی کوئی مصیبت آئی ہو، اسے ہمیشہ یہی یقین رہا کہ یہ تیری ہی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کو آزمائش میں ڈالو، یا (فرمایا) میرے بندے کے لیے (نعمتوں میں) اضافہ کر دو۔ سفیان کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ ان میں سے کس لفظ سے ابتدا کی۔ پھر فرشتے اسے آزمائش میں ڈالتے ہیں، پھر اللہ فرماتا ہے: اسے مزید آزماؤ، تو اسے آزمایا جاتا ہے، پھر وہ فرماتا ہے: اسے اور زیادہ آزماؤ—حالانکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والا ہے—تو فرشتے عرض کرتے ہیں: «أَيْ رَبِّ» ”اے میرے رب!“ آزمائش کی انتہا ہو گئی، تو وہ فرماتا ہے: اس کے لیے (عطا و فضل) مزید بڑھا دو، تو اس میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، پھر وہ فرماتا ہے: اسے اور زیادہ دو، تو مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے، پھر وہ فرماتا ہے: اسے اور زیادہ دو—حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے—تو فرشتے عرض کرتے ہیں: «أَيْ رَبِّ» ”اے میرے رب!“ اضافے کی حد ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ دریافت فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کو آزمائش میں کیسا پایا اور راحت و خوشحالی میں کیسا دیکھا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! وہ بہت زیادہ صبر کرنے والا اور نہایت شکر گزار بندہ ہے، تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کا نام ان لوگوں میں لکھ دو جن کا مقام و مرتبہ اور انجام کبھی بدلا یا تبدیل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ مجھ سے آ ملے“
[سنن دارمی: 3140، مسند احمد: 17804، عطاء بن سائب صدوق ہیں لیکن آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، تاہم سفیان ثوری کا ان سے سماع قدیم (اختلاط سے پہلے) ہے جس کی وجہ سے یہ سند صحیح ہے]۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3140
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد صحيح، وعطاء وإن كان قد اختلط، إلّا أن رواية سفيان، عنه كانت قبل الاختلاط. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»