❮
❯
حدیث نمبر: 3138
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَبْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَرْفَعُهُ قَالَ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي الدُّنْيَا عَلَى نِيَّةِ الْآخِرَةِ ، وَلَا يُعْطِي الْآخِرَةَ عَلَى نِيَّةِ الدُّنْيَا " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل آخرت کی نیت اور اس کے نیک ارادے پر (صلے کے طور پر) دنیا کی نعمتیں بھی عطا فرما دیتا ہے، لیکن وہ محض دنیا کے ارادے اور اس کی نیت پر آخرت کے ثمرات و انعامات ہرگز عطا نہیں فرماتا۔“
اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث نمبر: 3138) میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف جدًا، فيه عيسى بن سَبْرة وهو متروك، وفيه إبهام شيخه. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»