المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الضيق عَلَى المؤمن فِي الدنيا باب: دنیا میں مومن پر آنے والی تنگی اور عسرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3137
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَرَوِيُّ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ قَالَا : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، ثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا سَلْمَانُ ، إِنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ " .ترجمہ
عطیہ بن عامر جہنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اے سلمان! بلاشبہ یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت (جیسی جگہ) ہے۔“
مسند ابی یعلیٰ: 3137، اس کی سند میں سعید بن محمد الوراق ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کا اصل متن صحیح مسلم (2956) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہونے کی بنا پر صحیح و ثابت ہے۔