المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالسُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي باب: قبلہ رخ ہونے اور نمازی کے آگے سترہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 312
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ [قَمْطَةَ ] ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ [عَمْرٍو ] رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِإِزَاءِ الْمِيزَابِ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَهَذِهِ الْقِبْلَةُ هَذِهِ الْقِبْلَةُ .ترجمہ
یحییٰ بن قمطہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو مسجدِ حرام میں میزابِ کعبہ (پرنالے) کے بالکل سامنے دیکھا، وہ یہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا﴾ [سورة البقرة: 144] ”پس ہم یقیناً آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں“، (پھر انہوں نے کعبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) ”یہی وہ قبلہ ہے، یہی وہ قبلہ ہے۔“
اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں۔