المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وقصر الأمل باب: موت کے تذکرے اور (دنیاوی) امیدوں کو مختصر رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ ، أَنَا أَبُو خَالِدٍ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ آبَائِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ النَّاسِ أَكْيَسُ ؟ " قُلْتُ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَكْيَسَ النَّاسِ أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا ، وَأَحْسَنُهُمْ لِلهِ اسْتِعْدَادًا " .سیدنا زید بن علی اپنے آباء و اجداد رضی اللہ عنہم کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ ہوشیار اور زیرک کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند وہ شخص ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے سب سے بہترین تیاری کرنے والا ہو۔“
اس حدیث کی سند میں یحییٰ بن ہاشم غسانی نامی راوی متروک اور کذاب ہے، جس کی بنا پر یہ روایت موضوع (من گھڑت) کے درجے میں ہے، البتہ کثرت سے یادِ موت اور آخرت کی تیاری کا حکم دیگر مستند اور صحیح احادیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔