❮
❯
حدیث نمبر: 3120
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، أَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ ؟ " قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَكْيَسُ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا ، وَأَحْسَنُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا " .
ترجمہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے دریافت فرمایا: ”مومنوں میں سب سے زیادہ زیرک اور عقل مند کون ہے؟“ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مومنوں میں سب سے زیادہ عقل مند وہ ہیں جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرتے ہیں اور اس کے لیے سب سے بہترین تیاری کرنے والے ہیں۔“
[تخریج: یہ حدیث ابن ماجہ (4259) اور بیہقی (شعب الایمان: 10107) میں مروی ہے، اس کی سند میں خلیل بن زکریا ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر یہ روایت معنوی طور پر صحیح اور حسن لغیرہ ہے]

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدا
الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه الخليل بن زكريا، وهو متروك. »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 8667، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7295، 7296، 7297/2»