❮
❯
حدیث نمبر: 3119
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : تُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُونَ مِنْهَا ، فَقَالَ فُلَانٌ : وَيْحَهَا ; قَدِ اسْتَرَاحَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ " .
إِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
ترجمہ

عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (ان کے بارے میں کسی بات پر) ہنس رہے تھے، تب کسی شخص نے کہا: ”افسوس اس پر! یقیناً اس نے (موت کے ذریعے دنیا کے مصائب سے) راحت پالی ہے“، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حقیقی راحت و سکون صرف اسے نصیب ہوتا ہے جس کی مغفرت کر دی گئی ہو“۔
اس کی سند مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3119
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . »
«أخرجه المراسيل لأبي داود برقم: 519»