المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وقصر الأمل باب: موت کے تذکرے اور (دنیاوی) امیدوں کو مختصر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3119
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : تُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُونَ مِنْهَا ، فَقَالَ فُلَانٌ : وَيْحَهَا ; قَدِ اسْتَرَاحَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ " .
إِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (ان کے بارے میں کسی بات پر) ہنس رہے تھے، تب کسی شخص نے کہا: ”افسوس اس پر! یقیناً اس نے (موت کے ذریعے دنیا کے مصائب سے) راحت پالی ہے“، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حقیقی راحت و سکون صرف اسے نصیب ہوتا ہے جس کی مغفرت کر دی گئی ہو“۔
اس کی سند مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔