❮
❯
حدیث نمبر: 3118
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ الْأَعْرَجُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَجَبًا لِغَافِلٍ وَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ ، وَعَجَبًا لِطَالِبِ دُنْيَا وَالْمَوْتُ يَطْلُبُهُ ، وَعَجَبًا لِضَاحِكٍ مِلْءَ فِيهِ وَلَا يَدْرِي أَرْضَى اللهَ أَمْ أَسْخَطَهُ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس غافل شخص پر کمالِ حیرت ہے جس (کی گرفت اور حساب) سے غفلت نہیں برتی جا رہی، اور تعجب ہے دنیا کے اس طلبگار پر حالانکہ موت اسے خود تلاش کر رہی ہے، اور تعجب ہے اس شخص پر جو منہ بھر کر قہقہہ لگا کر ہنستا ہے جبکہ اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا ہے یا اسے ناراض کر دیا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں یحییٰ بن یعلیٰ الاسلمی کی موجودگی کی وجہ سے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف
الحديث بهذا الإسناد ضعيف، لضعف يحيى بن يعلى، وحميد الأعرج. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»