المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وقصر الأمل باب: موت کے تذکرے اور (دنیاوی) امیدوں کو مختصر رکھنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ الْأَعْرَجُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَجَبًا لِغَافِلٍ وَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ ، وَعَجَبًا لِطَالِبِ دُنْيَا وَالْمَوْتُ يَطْلُبُهُ ، وَعَجَبًا لِضَاحِكٍ مِلْءَ فِيهِ وَلَا يَدْرِي أَرْضَى اللهَ أَمْ أَسْخَطَهُ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس غافل شخص پر کمالِ حیرت ہے جس (کی گرفت اور حساب) سے غفلت نہیں برتی جا رہی، اور تعجب ہے دنیا کے اس طلبگار پر حالانکہ موت اسے خود تلاش کر رہی ہے، اور تعجب ہے اس شخص پر جو منہ بھر کر قہقہہ لگا کر ہنستا ہے جبکہ اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا ہے یا اسے ناراض کر دیا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں یحییٰ بن یعلیٰ الاسلمی کی موجودگی کی وجہ سے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔