المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وقصر الأمل باب: موت کے تذکرے اور (دنیاوی) امیدوں کو مختصر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3117
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ " .
3117 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ» ”مومن کے لیے (دنیا کی مشقتوں سے نجات اور لقائے الٰہی کے پیشِ نظر) موت ایک بیش قیمت تحفہ ہے“۔
امام عبد بن حمید نے اس حدیث کو یحییٰ بن عبد الحمید الحمانی، ابن المبارک، یحییٰ بن ایوب، بکر بن عمرو، عبد الرحمن بن زیاد اور ابو عبد الرحمن الحبلی کے طریق سے روایت کیا ہے، جبکہ امام ابو یعلیٰ نے اسے ابو ہماّم اور معاویہ بن عمرو کے واسطے سے ابن المبارک ہی کی مذکورہ سند سے بیان کیا ہے۔