المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وقصر الأمل باب: موت کے تذکرے اور (دنیاوی) امیدوں کو مختصر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3116
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا مُحَمَّدُ ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ ، وَأَحْبِبْ مَنْ أَحْبَبْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ لَاقِيهِ " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: اے محمد ﷺ! آپ جتنا عرصہ چاہیں زندگی گزار لیں، بالآخر آپ کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے؛ اور آپ جس سے چاہیں محبت کر لیں، یقیناً آپ کو ایک نہ ایک دن اس سے جدا ہونا ہے؛ اور آپ جو چاہیں عمل کریں، بے شک آپ کو اس کے نتیجے کا سامنا کرنا ہے۔“
امام ابوداؤد طیالسی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور دیگر محدثین نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔