المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وقصر الأمل باب: موت کے تذکرے اور (دنیاوی) امیدوں کو مختصر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3115
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قِيلَ لَهُ : مَا تُحِبُّ لِمَنْ تُحِبُّ ؟ قَالَ : الْمَوْتَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَمُتْ ؟ قَالَ : يَقِلُّ مَالُهُ وَوَلَدُهُ .ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا: ”آپ اپنے کسی محبوب شخص کے لیے کس چیز کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”موت کو۔“ پھر ان سے پوچھا گیا: ”اگر وہ فوت نہ ہو (یعنی اسے لمبی زندگی ملے) تو پھر آپ اس کے لیے کیا پسند کریں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ کہ اس کا مال اور اس کی اولاد کم ہو جائے۔“
اس اثر کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت دنیاوی علائق کی کمی اور فتنوں سے سلامتی کی ترغیب پر مبنی ہے تاکہ انسان آخرت کی تیاری پر توجہ مرکوز کر سکے۔