المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ العمر الغالب باب: غالب اور عمومی اوسط عمر کا بیان۔
" وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے دانستہ طور پر میری جانب کوئی جھوٹی بات منسوب کی، تو اسے چاہیے کہ وہ جہنم کی آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے۔“
[صحیح بخاری: 3127]
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا بَلَغَ الْعَبْدُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ مِنَ الْعُمُرِ " .. أَوْ قَالَ : " أَبْلَغَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعُمُرِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعْجَمِهِ الْكَبِيرِ عَنْ يُوسُفَ الْقَاضِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ .
وَرَوَاهُ الرُّويَانِيُّ فِي مُسْنَدِهِ عَنِ الصَّاغَانِيِّ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ .
وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي مُسْنَدِهِ عَنْ عَارِمٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِهِ .
وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَلَكِنْ لَهُ عِلَّةٌ ، رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَلَّقَهُ الْبُخَارِيُّ ، فَإِنْ كَانَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَفِظَهُ ، فَيُحْتَمَلُ عَلَى أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ مِنْ وَجْهَيْنِ .سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی بندہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر کے حوالے سے عذر کی گنجائش ختم کر دیتا ہے۔“ یا آپ ﷺ نے (شک کے ساتھ) یہ الفاظ فرمائے: ”اللہ عزوجل اس کے لیے عمر کی حجت تمام کر دیتا ہے۔“
اسے امام طبرانی نے ’معجم کبیر‘ میں یوسف قاضی کے واسطے سے سلیمان سے روایت کیا ہے۔
اسے امام رویانی نے اپنی ’مسند‘ میں صاغانی سے، انہوں نے خلف بن ہشام سے روایت کیا ہے۔
اسے علی بن عبدالعزیز نے اپنی ’مسند‘ میں عارم سے روایت کیا ہے، اور یہ تمام راوی اسے حماد بن زید کے واسطے سے نقل کرتے ہیں۔
یہ سند صحیح ہے لیکن اس میں ایک فنی علت ہے؛ کیونکہ اسے کئی دیگر راویوں نے ابوحازم سے، انہوں نے سعید مقبری سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور اسی سند سے امام بخاری نے اسے (صحیح بخاری میں) معلقاً روایت کیا ہے، پس اگر حماد بن زید نے اسے اسی طرح یاد رکھا ہے تو ممکن ہے کہ انہوں نے اسے دو مختلف سندوں سے سنا ہو۔