المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ الكذب عَلَى رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے ڈرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَوْسَعَ لَهُ الْمُغِيرَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : هُنَا فَاجْلِسْ ، فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ ہم سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں موجود تھے اور ان کے پاس اہل کوفہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، اسی دوران سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے جگہ کشادہ کی اور عزت افزائی کرتے ہوئے فرمایا: ”یہاں تشریف رکھیے“، چنانچہ انہوں نے انہیں اپنے ساتھ تخت (نشست) پر بٹھا لیا، اس موقع پر سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلاشبہ میری جانب کسی جھوٹی بات کی نسبت کرنا کسی عام شخص کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کی مانند نہیں ہے، لہٰذا جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم کی آگ میں بنا لے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری (1291) اور صحیح مسلم (4) میں موجود ہے، نیز یہ مضمون متواتر احادیث میں سے ہے۔