❮
❯
حدیث نمبر: 310
[وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ] : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ غَيْرَ الْقِبْلَةِ ) .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے عہد کے بدلتے ہوئے احوال پر اظہارِ تاسف کرتے ہوئے) فرمایا: ”میں لوگوں کے موجودہ معمولات اور ان کے دینی و دنیاوی امور میں سے کسی بھی چیز کو (عہدِ نبوی ﷺ کی اصل صورت پر) نہیں پہچانتا، سوائے اس ایک بات کے کہ وہ (نماز میں) قبلہ کی سمت رخ کرتے ہیں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 310) میں روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت صحیح بخاری (حدیث: 529) میں بھی الفاظ کے تھوڑے سے تفاوت کے ساتھ مذکور ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4149، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 310»