المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالسُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي باب: قبلہ رخ ہونے اور نمازی کے آگے سترہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 310
[وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ] : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ غَيْرَ الْقِبْلَةِ ) .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے عہد کے بدلتے ہوئے احوال پر اظہارِ تاسف کرتے ہوئے) فرمایا: ”میں لوگوں کے موجودہ معمولات اور ان کے دینی و دنیاوی امور میں سے کسی بھی چیز کو (عہدِ نبوی ﷺ کی اصل صورت پر) نہیں پہچانتا، سوائے اس ایک بات کے کہ وہ (نماز میں) قبلہ کی سمت رخ کرتے ہیں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 310) میں روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت صحیح بخاری (حدیث: 529) میں بھی الفاظ کے تھوڑے سے تفاوت کے ساتھ مذکور ہے۔