المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ تبيين الحديث مجملات القرآن باب: حدیث کے ذریعے قرآن کے مجمل احکام کی وضاحت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَيْنَمَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ وَعِنْدَهُ أَصْحَابٌ لَهُ يُحَدِّثُهُمْ فَقَالَ رَجُلٌ : لَا تُحَدِّثْنَا إِلَّا بِالْقُرْآنِ أَوْ لَا نُرِيدُ إِلَّا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ لَوْ وُكِلْتَ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ إِلَى الْقُرْآنِ أَكُنْتَ تَجِدُ صَلَاةَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ، وَصَلَاةَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا ، وَصَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا ، يُقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ؟ أَرَأَيْتَ لَوْ وُكِلْتَ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ إِلَى الْقُرْآنِ أَكُنْتَ تَجِدُ فِي كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةً ، وَفِي الْإِبِلِ كَذَا وَكَذَا ، وَفِي الْبَقَرِ كَذَا وَكَذَا ؟ أَرَأَيْتَ لَوْ وُكِلْتَ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ إِلَى الْقُرْآنِ أَكُنْتُ تَجِدُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ كَذَا وَكَذَا .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ تشریف فرما تھے اور ان کے پاس ان کے کچھ ساتھی موجود تھے جنہیں وہ حدیثیں سنا رہے تھے، اتنے میں ایک شخص بول اٹھا: ”ہمیں صرف قرآن ہی سنایا کریں“ یا اس نے یوں کہا کہ ”ہمیں صرف قرآن ہی مطلوب ہے“، اس پر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے! اگر تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو صرف قرآن کے حوالے کر دیا جائے، تو کیا تم قرآن میں یہ پاؤ گے کہ ظہر کی چار رکعتیں ہیں، عصر کی چار رکعتیں ہیں، اور مغرب کی تین رکعتیں ہیں جن کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی جاتی ہے؟ بھلا یہ تو بتاؤ! اگر تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو محض قرآن کے سپرد کر دیا جائے، تو کیا تم اس میں یہ تفصیل پاؤ گے کہ ہر دو سو (درہم) میں سے پانچ (درہم زکوٰۃ) واجب ہے، اور اونٹوں (کی زکوٰۃ) میں اس اس طرح (حساب) ہے، اور گایوں (کی زکوٰۃ) میں اس اس طرح ہے؟ ذرا یہ تو بتاؤ! اگر تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو صرف قرآن ہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، تو کیا تم قرآن میں یہ معلوم کر سکو گے کہ بیت اللہ کا طواف سات چکروں پر مشتمل ہے، اور صفا و مروہ کے درمیان (سعی) اس اس طرح سے ہے؟“
یہ روایت مسند احمد اور دیگر کتب میں موجود ہے، جس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، تاہم اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے ثابت اور مستند ہے۔