المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، ثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ فِيهِ : مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لَا تُجْبَرُ ، وَثُلْمَةٌ لَا تُسَدُّ ، وَهُوَ نَجْمٌ طُمِسَ ، مَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث مبارکہ بیان فرمائی جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عالمِ دین کی وفات ایک ایسی ناگہانی مصیبت ہے جس کی تلافی ممکن نہیں اور دین میں ایک ایسا شگاف ہے جسے پُر نہیں کیا جا سکتا؛ عالمِ دین کی مثال اس روشن ستارے کی سی ہے جس کا نور مٹ گیا ہو، نیز ایک پورے قبیلے کا موت کی آغوش میں چلے جانا ایک عالم کی وفات کے مقابلے میں زیادہ آسان اور ہلکا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی کی موجودگی کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، تاہم علم کی اہمیت اور علما کی وفات سے پیدا ہونے والے خلا سے متعلق دیگر صحیح روایات اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔