❮
❯
حدیث نمبر: 3099
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَسَى أَنْ يُكَذِّبَنِي رَجُلٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَبْلُغُهُ الْحَدِيثُ عَنِّي فَيَقُولُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْ هَذَا وَهَاتِ مَا فِي الْقُرْآنِ .
قَالَ إِسْمَاعِيلُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . قُلْتُ : فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْحَسَنِ ، فَأَتَيْنَا الْحَسَنَ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْحَدِيثِ فَقَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے مزین تخت یا آرام دہ نشست پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اسے میری کوئی حدیث پہنچے تو وہ مجھے جھٹلا دے اور کہے: رسول اللہ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ اس بات کو چھوڑو اور جو کچھ قرآن میں ہے وہ پیش کرو“۔
اسماعیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن عبید کو سنائی تو اس نے کہا کہ ہمیں امام حسن بصری نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے، میں نے اس سے کہا کہ پھر ہمارے ساتھ حسن بصری کے پاس چلو، چنانچہ ہم حسن بصری کے پاس پہنچے اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے یزید رقاشی نے محمد بن منکدر کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3099
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 697، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 326»