المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ الْعَبَّادَانِيُّ ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَخِيهِ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الْأَجْوَدِ ؟ الْأَجْوَدُ اللهُ تَعَالَى ، وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَأَجْوَدُهُمْ مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَ عِلْمَهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ ، وَرَجُلٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يُقْتَلَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس ہستی کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے زیادہ جود و سخا فرمانے والی ہے؟ سب سے زیادہ سخی تو اللہ تعالیٰ ہے، اور میں اولادِ آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں، اور میرے بعد ان سب میں سب سے بڑا سخی وہ شخص ہو گا جس نے علم حاصل کیا اور پھر اسے (لوگوں میں) عام کر دیا، اسے قیامت کے دن اکیلا ہی ایک امت بنا کر اٹھایا جائے گا، اور (دوسرا) وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں اپنی جان لڑا کر جہاد کیا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا۔“
[تخريج: یہ حدیث امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ (3107) میں روایت کی ہے، اس کی سند میں سوید بن عبدالعزیز اور نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں، علامہ البانی نے اسے ’ضعیف الجامع الصغیر‘ (2178) میں ضعیف قرار دیا ہے]