المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، ثَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ ، ثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثًا مِمَّا يَنْفَعُهُمْ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ بُعِثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْعُلَمَاءِ ، وَفُضِّلَ الْعَالِمُ عَلَى الْعَابِدِ سَبْعِينَ دَرَجَةً ، اللهُ أَعْلَمُ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے میری امت کی خاطر ان کے دین کے معاملات سے متعلق ایسی چالیس احادیث یاد کر کے محفوظ کیں جو انہیں نفع پہنچائیں، تو اسے قیامت کے دن علماء کے زمرے میں اٹھایا جائے گا، اور ایک عالم کو عابد پر ستر درجے فضیلت عطا کی جائے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہر دو درجوں کے درمیان (عظمت و وسعت کا) کتنا فاصلہ ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عمرو بن حصین عقیلی نامی راوی کے موجود ہونے کی بنا پر محدثین نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت) اور سخت ضعیف قرار دیا ہے۔