المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَقَوْمٌ يَتَذَاكَرُونَ الْفِقْهَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كِلَا الْمَجْلِسَيْنِ عَلَى خَيْرٍ ، أَمَّا الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَ رَبَّهُمْ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ ، وَهَؤُلَاءِ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ وَيَتَعَلَّمُونَ ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا وَهَذَا أَفْضَلُ فَقَعَدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ .
3090 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، بِهِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو وہاں دو گروہ موجود تھے، ایک گروہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ذکر و اذکار میں مصروف تھا اور دوسرا گروہ فقہ و دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے اور اس کا باہمی مذاکرہ کرنے میں مگن تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ دونوں ہی مجلسیں خیر و بھلائی پر قائم ہیں، بہرحال وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں اور اپنے رب سے التجا و سوال کر رہے ہیں تو اگر اللہ چاہے تو انہیں عطا فرما دے اور چاہے تو (اپنی حکمت کے مطابق) روک لے، لیکن یہ لوگ جو لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں اور خود بھی علم سیکھ رہے ہیں (ان کا درجہ بلند ہے)، کیونکہ حقیقت میں تو میں ایک معلم بنا کر ہی مبعوث کیا گیا ہوں اور یہ عمل (پہلی صورت سے) زیادہ افضل ہے۔“ پھر نبی کریم ﷺ انہی کے ساتھ تشریف فرما ہو گئے۔
امام طیالسی اور امام حارث نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ اسے امام عبداللہ بن مبارک کے واسطے سے روایت کیا ہے۔