المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ، ثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمُوا وَلَا تُعَنِّفُوا ، فَإِنَّ الْمُعَلِّمَ خَيْرٌ مِنَ الْمُعَنِّفِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (لوگوں کو نیکی و بھلائی کی) تعلیم دیا کرو اور (سکھانے میں) سختی و درشتی سے کام نہ لیا کرو، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ (محبت و شفقت سے) سکھانے والا معلم، سختی اور ملامت کرنے والے کی نسبت کہیں بہتر ہوتا ہے۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش الحمصي اور حمید بن ابی سوید موجود ہیں، یہی روایت امام بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں بھی نقل کی ہے، علمائے حدیث کے نزدیک اسماعیل بن عیاش کی اپنے اہل شہر (شامیوں) کے علاوہ دیگر سے روایت میں ضعف پایا جاتا ہے۔