المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3091
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ ، ثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ ، عَنْ شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَجْمَعُ عِلْمَ النَّاسِ إِلَى عِلْمِهِ وَكُلُّ صَاحِبِ عِلْمٍ غَرْثَانُ .ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ ”لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ جمع کر لے (یعنی دوسروں کے علوم سے بھی بھرپور استفادہ کرے)، اور یاد رکھو کہ ہر علم والا «غَرْثَانُ» ”(مزید علم کا) پیاسا اور حریص“ ہوتا ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مسعدہ بن الیسع نامی راوی کذاب اور متروک ہے، جس کے باعث یہ روایت سخت ضعیف یا موضوع کے درجے میں آتی ہے۔