المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الرحلة فِي طَلَبِ العلم باب: حصولِ علم کی خاطر رختِ سفر باندھنے اور مسافتیں طے کرنے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ بُرْقَانَ ، ثَنَا يَحْيَى أَبُو هِشَامٍ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى مِصْرَ ، فَقَالَ لِحَاجِبِ أَمِيرِهَا : قُلْ لِلْأَمِيرِ يَخْرُجْ إِلَيَّ ، فَقَالَ الْحَاجِبُ : مَا قَالَ لَنَا أَحَدٌ هَذَا مُنْذُ نَزَلْنَا هَذَا الْمَنْزِلَ غَيْرُكَ ، إِنَّمَا كَانَ يُقَالُ : اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى الْأَمِيرِ ، فَقَالَ : ايتِهِ فَقُلْ لَهُ : هَذَا فُلَانٌ بِالْبَابِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْأَمِيرُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثٍ ( فِي سُتْرَةِ عَوْرَةِ مُسْلِمٍ ) .یحییٰ ابو ہشام دمشقی سے روایت ہے کہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص مصر آیا اور وہاں کے حاکم کے دربان سے کہا: ”امیر سے کہو کہ وہ باہر میری طرف آئے“، تو دربان نے (تعجب سے) کہا: ”جب سے ہم اس مقام پر مقیم ہوئے ہیں، آپ کے علاوہ کسی نے ہم سے ایسی بات نہیں کہی، لوگ تو بس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے لیے امیر سے باریابی کی اجازت طلب کرو“، اس پر اس شخص نے دوبارہ کہا: ”تم ان کے پاس جاؤ اور بس یہ کہہ دو کہ فلاں شخص دروازے پر موجود ہے“، چنانچہ امیر (یہ سنتے ہی) خود اس کی طرف باہر نکل آیا، تو اس شخص نے کہا: ”میں آپ کے پاس محض اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کروں جو کسی مسلمان کے عیوب چھپانے اور اس کی پردہ پوشی کرنے کے متعلق ہے“۔
مسند الحارث: 3090۔