المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الرحلة فِي طَلَبِ العلم باب: حصولِ علم کی خاطر رختِ سفر باندھنے اور مسافتیں طے کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، ثَنَا جُنْدُبٌ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ ، وَإِذَا النَّاسُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلَقٌ حِلَقٌ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ : فَجَعَلْتُ أَمْضِي إِلَى الْحِلَقِ حَتَّى أَتَيْتُ حَلْقَةً ، فِيهَا رَجُلٌ شَاحِبٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ كَأَنَّمَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : هَلَكَ أَصْحَابُ الْعُقَدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، لَا آسَى عَلَيْهِمْ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَتَحَدَّثَ بِمَا قُضِيَ لَهُ ثُمَّ قَامَ ، فَلَمَّا قَامَ سَأَلْتُ عَنْهُ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ ، فَتَبِعْتُهُ حَتَّى أَتَى مَنْزِلَهُ فَإِذَا هُوَ رَثُّ الْهَيْئَةِ ، وَرَثُّ الْكِسْوَةِ ، يُشْبِهُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ، ثُمَّ سَأَلَنِي : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَكْثَرُ شَيْءٍ سُؤَالًا ، فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ غَضِبْتُ فَجَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتَيَّ ، وَاسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ ، وَرَفَعْتُ يَدَيَّ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُوهُمْ إِلَيْكَ إِنَّا نُنْفِقُ نَفَقَاتِنَا ، وَنُنْصِبُ أَبْدَانَنَا ، وَنُرَحِّلُ مَطَايَانَا ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ فَإِذَا لَقِينَاهُمْ تَجَهَّمُونَا وَقَالُوا لَنَا ، فَبَكَى أُبَيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَعَلَ يَتَرَضَّانِي ، وَقَالَ : وَيْحَكَ اذْهَبْ هُنَاكَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُعَاهِدُكَ لَأَنْ أَبْقَيْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَأَتَكَلَّمَنَّ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَخَافُ فِيكَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، ثُمَّ أُرَاهُ قَامَ ، فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ انْصَرَفْتُ عَنْهُ ، وَجَعَلْتُ أَنْتَظِرُ الْجُمُعَةَ لِأَسْمَعَ كَلَامَهُ قَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ ، خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَاتِي ، فَإِذَا السِّكَكُ غَاصَّةٌ مِنَ النَّاسِ ، لَا آخُذُ فِي سِكَّةٍ إِلَّا يَلْقَانِي النَّاسُ ، قُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ قَالُوا : نَحْسَبُكَ غَرِيبًا ؟ قُلْتُ : أَجَلْ ، قَالُوا : مَاتَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْعِرَاقِ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : وَا لَهْفَاهُ أَلَا كَانَ حَتَّى يُبَلِّغَنَا مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں علم کی تلاش میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو دیکھا کہ لوگ مسجد نبوی ﷺ میں حلقوں کی صورت میں بیٹھے گفتگو کر رہے ہیں۔ میں ان حلقوں کے پاس سے گزرتا رہا یہاں تک کہ ایک ایسے حلقے میں پہنچا جس میں ایک صاحب تھے جن کا رنگ متغیر تھا اور ان پر دو کپڑے تھے، گویا کہ وہ ابھی سفر سے لوٹے ہوں۔ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ربِ کعبہ کی قسم! گرہ لگانے والے (امورِ سلطنت اور عہدے سنبھالنے والے) ہلاک ہو گئے، مجھے ان پر کوئی افسوس نہیں ہے۔“ انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے کچھ باتیں کیں جو ان کے مقدر میں تھیں، پھر وہ کھڑے ہو گئے۔ جب وہ اٹھ گئے تو میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ مسلمانوں کے سردار سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ انتہائی سادہ حالت اور سادہ لباس میں تھے، ان کی ظاہری حالت اور گھر کی وضع قطع یکساں (تواضع والی) تھی۔ میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر مجھ سے پوچھا: ”تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اہل عراق سے۔“ انہوں نے فرمایا: ”وہ جو سب سے زیادہ سوال کرنے والے ہیں۔“ جب انہوں نے یہ بات کہی تو مجھے غصہ آ گیا، میں اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، قبلہ رخ ہوا، اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُوهُمْ إِلَيْكَ إِنَّا نُنْفِقُ نَفَقَاتِنَا، وَنُنْصِبُ أَبْدَانَنَا، وَنُرَحِّلُ مَطَايَانَا ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ فَإِذَا لَقِينَاهُمْ تَجَهَّمُونَا وَقَالُوا لَنَا» ”اے اللہ! ہم تیرے حضور ان (اکابر) کی شکایت کرتے ہیں، ہم (علم کی طلب میں) اپنا مال خرچ کرتے ہیں، اپنے جسموں کو تھکاتے ہیں اور اپنی سواریاں دوڑاتے ہوئے آتے ہیں، لیکن جب ہم ان سے ملتے ہیں تو وہ ہمارے سامنے ماتھے پر بل لاتے ہیں اور ہمیں (طنزاً) ایسی باتیں کہتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور مجھے راضی کرنے کی کوشش کی اور فرمایا: ”تمہارا بھلا ہو، ذرا قریب آ جاؤ۔“ پھر انہوں نے دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعَاهِدُكَ لَأَنْ أَبْقَيْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَأَتَكَلَّمَنَّ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَخَافُ فِيكَ لَوْمَةَ لَائِمٍ» ”اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے جمعہ کے دن تک زندہ رکھا، تو میں وہ تمام باتیں ضرور بیان کر دوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے پھر وہ کھڑے ہو گئے، جب انہوں نے یہ بات کہی تو میں وہاں سے رخصت ہوا اور ان کی گفتگو سننے کے لیے جمعہ کا انتظار کرنے لگا۔ جب جمعرات کا دن ہوا تو میں اپنی کسی ضرورت کے لیے نکلا، دیکھا کہ گلیاں لوگوں سے بھری ہوئی ہیں، میں جس گلی میں بھی جاتا وہاں لوگوں کا ہجوم پاتا۔ میں نے پوچھا: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہمارا خیال ہے کہ تم اجنبی ہو؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے بتایا: ”مسلمانوں کے عظیم پیشوا سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں عراق میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں یہ واقعہ سنایا، تو انہوں نے (افسوس سے) کہا: ”ہائے کتنا بڑا نقصان ہوا! کاش وہ زندہ رہتے یہاں تک کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان پہنچا دیتے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کی اصل صحیح مسلم (2497) میں مختصراً مروی ہے، مسند ابی یعلی: 3080، المطالب العالیہ: 3091۔