المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى نشر العلم باب: علم کی نشر و اشاعت اور اسے پھیلانے کی ترغیب دلانے کے متعلق باب۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ النَّخَعِ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ إِيلْيَا فَصَلَّيْتُ إِلَى سَارِيَةٍ رَكْعَتَيْنِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى قَرِيبًا ، فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَجَاءَ رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَجِبْ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَنْهَانِي أَنْ أُحَدِّثَ كَمَا كَانَ أَبُوهُ يَنْهَانِي ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ حَدِيثًا .قبیلہ نخع کے ایک بزرگ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں بیت المقدس کی مسجد (مسجدِ ایلیا) میں داخل ہوا اور ایک ستون کی جانب دو رکعتیں ادا کیں، اسی دوران ایک صاحب تشریف لائے اور قریب ہی نماز پڑھی تو لوگ ان کی طرف کھچے چلے آئے، دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما تھے، اتنے میں یزید بن معاویہ کا قاصد یہ پیغام لے کر آیا کہ ”ان (یزید) کے بلاوے پر حاضر ہوں“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ شخص مجھے حدیث بیان کرنے سے اسی طرح روکنا چاہتا ہے جیسے اس کا باپ مجھے منع کیا کرتا تھا، حالانکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے“ پھر انہوں نے ایک حدیث بیان فرمائی۔
اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔