❮
❯
حدیث نمبر: 3072
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَفْرِيقِيُّ ، ثَنَا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سُئِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا مَرْفُوعًا ، فِيهِ قَالَ : وَأَمَّا أَبُو جَادٍ : فَالْبَاءُ : بَهَاءُ اللهِ ، وَالْجِيمُ : جَمَالُ اللهِ ، وَالدَّالُ : دِينُ اللهِ ارْتَضَاهُ لِنَفْسِهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَأَنْبِيَائِهِ وَرُسُلِهِ وَصَالِحِ خَلْقِهِ ، وَأَمَّا هَوَّزْ : فَالْهَاءُ : هَوَانُ أَهْلِ النَّارِ ، وَالزَّايُ : زَفِيرُ جَهَنَّمَ عَلَى أَهْلِ أَعْدَاءِ اللهِ وَأَهْلِ الْمَعَاصِي .
وَأَمَّا حُطِّي : فَحُطَّتْ عَنِ الْمُذْنِبِينَ خَطَايَاهُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ ، وَأَمَّا كَلَمُنْ : فَالْكَافُ : كَمَالُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَمَّا النُّونُ : فَالسَّمَكَةُ الَّتِي يَأْكُلُونَ مِنْ كَبِدِهَا قَبْلَ دُخُولِهِمُ الْجَنَّةَ ، وَأَمَّا سَعْفَصْ : فَصَاعٌ بِصَاعٍ وَفَصٌّ بِفَصٍّ ، وَكَمَا تَدِينُ تُدَانُ ، وَأَمَّا قَرَشَتْ : فَعُرِضُوا عَلَى الْحِسَابِ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے (حروفِ ابجد کے معانی کے متعلق) سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک مرفوع حدیث ذکر کی جس میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور جہاں تک «أَبُو جَادٍ» کا تعلق ہے تو اس میں ’ب‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت و بہاء ہے، ’ج‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا جمال ہے اور ’د‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ پسندیدہ دین ہے جسے اس نے خود اپنی ذات، اپنے فرشتوں، اپنے انبیاء، اپنے رسولوں اور اپنی نیک مخلوق کے لیے پسند فرمایا ہے، اور رہی بات «هَوَّزْ» کی تو اس میں ’ہ‘ سے مراد دوزخیوں کی ذلت و خواری ہے اور ’ز‘ سے مراد اللہ کے دشمنوں اور نافرمانوں پر جہنم کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا ہے۔
اور جہاں تک «حُطِّي» کا تعلق ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ استغفار کے ذریعے گناہ گاروں کے گناہ جھاڑ دیے گئے (یعنی مٹا دیے گئے)، اور رہی بات «كَلَمُنْ» کی تو اس میں ’ک‘ سے مراد اہلِ جنت کا کمالِ (نعمت) ہے جس پر انہوں نے کہا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ﴾ [سورة الزمر: 74] ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا“، اور ’ن‘ سے مراد وہ مچھلی ہے جس کے جگر کا ٹکڑا اہلِ جنت، جنت میں داخل ہونے سے پہلے (بطور مہمانی) کھائیں گے، اور جہاں تک «سَعْفَصْ» کا تعلق ہے تو اس کا مطلب ہے پیمانے کے بدلے پیمانہ اور صلے کے بدلے صلہ، یعنی جیسا تم کرو گے ویسا ہی بھرو گے، اور رہی بات «قَرَشَتْ» کی تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام لوگ حساب و کتاب کے لیے (اللہ کے حضور) پیش کر دیے گئے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3072
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»