❮
❯
حدیث نمبر: 3070
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا وَفِيهِ : وَمَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ ، وَتَوَاضَعَ فِي الْعِلْمِ ، وَعَلَّمَهُ عِبَادَ اللهِ تَعَالَى يُرِيدُ بِذَلِكَ مَا عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلُ ثَوَابًا وَلَا أَعْظَمُ مَنْزِلَةً مِنْهُ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ مَنْزِلَةٌ وَلَا دَرَجَةٌ رَفِيعَةٌ نَفِيسَةٌ إِلَّا وَلَهُ فِيهَا أَوْفَرُ نَصِيبٍ وَأَوْفَرُ الْمَنَازِلِ ، أَلَا وَإِنَّ الْعِلْمَ أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ وَمِلَاكَ الدِّينِ الْوَرَعُ ، وَإِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ ، وَإِنْ كَانَ قَلِيلَ الْعِلْمِ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے علم حاصل کیا اور علم کی خاطر عاجزی و انکساری کو اپنایا، اور اسے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محض اللہ عزوجل کی رضا اور اس کے ہاں موجود اجر کی خاطر سکھایا، تو جنت میں اس سے بڑھ کر بہترین ثواب والا اور اس سے بلند مرتبے والا کوئی نہ ہوگا۔ جنت کا کوئی بھی مقام یا کوئی بھی بلند و بالا اور نفیس درجہ ایسا نہ ہوگا جس میں اس کا سب سے وافر حصہ اور بہترین ٹھکانہ نہ ہو۔ یاد رکھو! یقیناً علم حاصل کرنا سب سے افضل عبادت ہے اور دین کا اصل مدار پرہیزگاری و تقویٰ پر ہے۔ درحقیقت عالم وہی ہے جو اپنے علم پر عمل کرے، خواہ اس کا علم تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے؛ اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ اور داؤد بن المحبر جیسے کذاب اور متروک راوی موجود ہیں، اس کی تخریج امام بوسیری نے ’اتحاف الخيرة المهرة‘ میں کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3070
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10969»