المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى نشر العلم باب: علم کی نشر و اشاعت اور اسے پھیلانے کی ترغیب دلانے کے متعلق باب۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى وَقَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ يَسْتَفْتُونَهُ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَلَمْ يَنْهَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الْفُتْيَا ؟ قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَقِيبٌ أَنْتَ عَلَيَّ ؟ لَوْ وَضَعْتُمُ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنَّنِي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لَأَنْفَذْتُهَا .
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، عَلَّقَ الْبُخَارِيُّ طَرَفًا مِنْهُ فِي كِتَابِ الْعِلْمِ .ابو کثیر کے والد سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ جمرہ وسطیٰ کے پاس موجود تھے اور لوگوں کا ایک ہجوم ان کے گرد شرعی مسائل دریافت کرنے کے لیے جمع تھا، اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”کیا امیر المومنین نے آپ کو فتویٰ دینے سے منع نہیں فرمایا تھا؟“ وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”کیا تم مجھ پر کوئی نگران و دیدبان مقرر کیے گئے ہو؟ اگر تم اس پر“ اور انہوں نے اپنی گدی (گردن کی پشت) کی طرف اشارہ کیا ”انتہائی تیز دھار تلوار بھی رکھ دو اور مجھے یہ یقین ہو کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے جو کلمہ سنا ہے، اسے تمہارے (مجھے قتل کر کے) فارغ ہونے سے پہلے پہلے دوسروں تک پہنچا سکتا ہوں، تو میں اسے ضرور پہنچا دوں گا۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا ایک حصہ کتاب العلم میں تعلیقاً نقل کیا ہے۔