المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا فَرْضَ مِنَ الصَّلَاةِ غَيْرُ الْخَمْسِ باب: پانچ نمازوں کے سوا کوئی نماز فرض نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 307
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا حُبَيِّبُ بْنُ حَبِيبٍ ، أَخُو حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِنَّا أُنَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَهَا هُنَا أُنَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّا لَسْنَا عَلَى شَيْءٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَقَرَى الضَّيْفَ - دَخَلَ الْجَنَّةَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک دیہاتی شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”اے ابن عباس! ہم مسلمانوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہاں مہاجرین میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم (دین کی) کسی صحیح بنیاد پر نہیں ہیں۔“ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی، بیت اللہ کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان کی میزبانی و خاطر تواضع کی، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔