المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا فَرْضَ مِنَ الصَّلَاةِ غَيْرُ الْخَمْسِ باب: پانچ نمازوں کے سوا کوئی نماز فرض نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 306
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ [الْعَبْدِيِّ] ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ خَمْسِينَ صَلَاةً ، ثُمَّ نَقَصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : " كَانَ لَكَ فِي الْخَمْسِ خَمْسِينَ ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا " .ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ پر شبِ معراج پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر ان میں بتدریج کمی کی گئی یہاں تک کہ وہ پانچ کر دی گئیں، تو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے ان پانچ نمازوں میں پچاس ہی کا ثواب و اجر ہے، کیونکہ ایک نیکی کا بدلہ اس کے دس گنا کے برابر ہوتا ہے““۔
اسے امام عبد بن حمید نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔