❮
❯
حدیث نمبر: 3066
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ الْوَرَّاقُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ أَوِ ادَّعَى إِلَيَّ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ مَقْعَدًا قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ لَهَا عَيْنَانِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا
فَكَفَفْنَا عَنِ الْحَدِيثِ حَتَّى أَنْكَرَ ذَلِكَ مِنْ شَأْنِنَا ، فَقَالَ لَنَا : مَا لِي لَا أَسْمَعُكُمْ تَتَحَدَّثُونَ ؟ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ نَتَحَدَّثُ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ ؟ وَنَحْنُ لَا نُقِيمُ الْحَدِيثَ نُقَدِّمُ وَنُؤَخِّرُ ، وَنَزِيدُ وَنُنْقِصُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ ذَلِكَ عَنَيْتُ وَإِنَّمَا عَنَيْتُ مَنْ أَرَادَ عَيْبِي وَشَيْنَ الْإِسْلَامِ .
ترجمہ

ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی، یا کوئی (جھوٹا) دعویٰ کرے، یا اپنے (آزاد کرنے والے) آقاؤں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، تو وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا جہنم کی دو آنکھیں بھی ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا﴾ [سورة الفرقان: 12]؟“
راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے (اس وعید کے خوف سے) حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے ہمارے اس رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور ہم سے پوچھا: ”کیا بات ہے کہ میں تمہیں حدیثیں بیان کرتے ہوئے نہیں سن رہا؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے حدیثیں بیان کریں جبکہ آپ نے وہ وعید فرما دی ہے جو آپ فرما چکے؟ اور ہم حدیث کو (من و عن) محفوظ نہیں رکھ پاتے، کبھی کوئی لفظ آگے کر دیتے ہیں اور کبھی پیچھے، اور کبھی اس میں کمی بیشی ہو جاتی ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا مقصد وہ (بشری خطائیں) نہیں تھیں، بلکہ میں نے تو اس شخص کے بارے میں فرمایا تھا جو مجھ پر عیب لگانے اور اسلام کو بدنما کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3066
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»