المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا فَرْضَ مِنَ الصَّلَاةِ غَيْرُ الْخَمْسِ باب: پانچ نمازوں کے سوا کوئی نماز فرض نہ ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ فِيهِمْ عُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَتَانِي جِبْرِيلُ ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، مِنْ عِنْدِ اللهِ تَعَالَى ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : إِنِّي فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، مَنْ وَفَى بِهِنَّ عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ فَإِنَّ لَهُ بِهِنَّ عِنْدِي عَهْدًا أَنْ أُدْخِلَهُ بِهِنَّ الْجَنَّةَ الْحَدِيثَ .ابو ادریس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ایک ایسی مجلس میں موجود تھا جس میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میرے پاس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: اے محمد (ﷺ)! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقیناً میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، چنانچہ جس کسی نے ان کے وضو، ان کے اوقات اور ان کے رکوع و سجود کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے انہیں ادا کیا، تو میرے ذمہ اس کے لیے یہ عہد و پیمان ہے کہ میں ان نمازوں کے باعث اسے جنت میں داخل فرماؤں گا“۔
تخریج: سنن ابی داود: 430، مسند احمد: 22704، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔