المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الورع فِي الفتوى باب: فتویٰ نویسی اور شرعی مسئلہ بتانے میں تقویٰ، پرہیزگاری اور غایت درجے کی احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 3058
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْخَبَرُ الصَّالِحُ يَجِيءُ بِهِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ، وَالْخَبَرُ السُّوءُ يَجِيءُ بِهِ الرَّجُلُ السُّوءُ .
وَبِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَخْطَلُ الرَّجُلُ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پاکیزہ اور اچھی خبر نیک اور صالح انسان ہی لاتا ہے، جبکہ بری اور فاسد خبر برا انسان ہی لے کر آتا ہے۔“ نیز آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”مردِ مومن بیہودہ گوئی، بے ڈھنگی اور لایعنی باتیں نہیں کرتا۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی یوسف بن عطیہ کے ضعف کی وجہ سے یہ روایت سنداً کمزور ہے۔