المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الورع فِي الفتوى باب: فتویٰ نویسی اور شرعی مسئلہ بتانے میں تقویٰ، پرہیزگاری اور غایت درجے کی احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 3057
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِلَيْكُمْ عَنِّي إِنِّي كُنْتُ مَعَ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنِّي ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنِّي أَبْقَى حَتَّى يُفْتَقَرَ إِلَيَّ لَتَعَلَّمْتُ لَكُمْ ، إِلَيْكُمْ عَنِّي .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ لوگوں سے (کثرتِ سوال کی بنا پر) فرمایا کرتے تھے: ”اے لوگو! تم مجھ سے دور رہو، بے شک میں ان جلیل القدر ہستیوں کی معیت میں رہا ہوں جو علم و بصیرت میں مجھ سے کہیں زیادہ فائق تھے، اور اگر مجھے پہلے سے یہ علم ہوتا کہ میں اتنی طویل عمر پاؤں گا کہ لوگ (مسائل کے حل کے لیے) میرے محتاج ہو جائیں گے تو میں تمہاری خاطر مزید تندہی سے علم حاصل کر لیتا، لہٰذا اب مجھ سے دور ہی رہو۔“
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں، امام حارث بن ابی اسامہ نے اسے اپنی مسند (بغیۃ الباحث) میں روایت کیا ہے۔