❮
❯
حدیث نمبر: 3034
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنْتَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ الْعَبْدِيُّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَضَرَبَهُ بِعَصًا مَعَهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْـزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ ، الْآيَةَ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كِتَابَ دَانْيَالَ ؟ قَالَ : مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعْهُ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : انْطَلِقْ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ ، ثُمَّ لَا تَقْرَأْهُ أَنْتَ ، وَلَا تُقْرِئْهُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَلَإِنْ بَلَغَنِي أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقْرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَأَهْلَكْتُكَ عُقُوبَةً ، ثُمَّ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ .
قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا ، فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ : كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ بِهِ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أُغْضِبَ نَبِيُّكُمُ ، السِّلَاحَ السِّلَاحَ فَجَاؤُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، فَلَا تَتَهَوَّكُوا ، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِكَ رَسُولًا ، ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ

سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک قبیلہ عبد القیس کا ایک شخص لایا گیا جس کی رہائش "سوس" نامی علاقے میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم فلاں بن فلاں عبدی ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود ایک چھڑی سے اسے مارا، اس شخص نے کہا: اے امیر المومنین! میرا کیا قصور ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، وہ بیٹھ گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْـزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ [سورة يوسف: 1-3]۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ آیات پڑھیں اور تین بار اسے ضرب لگائی، اس شخص نے پھر پوچھا: اے امیر المومنین! میرا جرم کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم وہی ہو جس نے دانیال علیہ السلام کی کتاب کی نقل تیار کی ہے؟“ اس نے عرض کیا: آپ مجھے جو حکم دیں گے میں اس کی اطاعت کروں گا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے گرم پانی اور سفید اون کے ٹکڑے سے مٹا دو، پھر نہ تو تم اسے خود پڑھنا اور نہ ہی کسی مسلمان کو پڑھانا، اگر مجھے یہ اطلاع ملی کہ تم نے اسے پڑھا ہے یا کسی مسلمان کو پڑھایا ہے تو میں تمہیں عبرت ناک سزا دوں گا“، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے سامنے بٹھایا اور (اپنا واقعہ سناتے ہوئے) فرمایا: میں خود اہل کتاب سے ایک کتاب نقل کر کے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ لایا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”اے عمر! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ایک کتاب ہے جسے میں نے اپنے علم میں اضافے کی خاطر نقل کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ سخت غضب ناک ہوئے یہاں تک کہ آپ کی مبارک آنکھیں سرخ ہو گئیں، پھر نماز کے لیے منادی کی گئی تو انصار کہنے لگے: تمہارے نبی ﷺ کو غصہ دلایا گیا ہے، ہتھیار سنبھال لو، ہتھیار سنبھال لو! یہاں تک کہ وہ آ کر رسول اللہ ﷺ کے منبر کے گرد جمع ہو گئے، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے پاس ایسا دین لایا ہوں جو نہایت واضح، روشن اور پاکیزہ ہے، پس تم حیرانی و پریشانی میں مبتلا نہ ہو اور نہ ہی تمہیں وہ لوگ دھوکے میں ڈالیں جو خود حق سے بھٹکے ہوئے ہیں“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا: «رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولًا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور آپ کے رسول ہونے پر دل و جان سے راضی ہوں“، تب رسول اللہ ﷺ کا غصہ ختم ہوا اور آپ منبر سے نیچے تشریف لائے۔
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلی موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق نامی راوی ضعیف ہے، تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس واقعے کے دیگر شواہد مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں مختلف اسانید سے مروی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3034
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا السند ضعيف وفيه علتان: الأولى: ضعف عبد الرحمن بن إسحاق. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 115، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3848، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 10163»