المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الإذن فِي الكتابة باب: کتابت (یعنی علم و حدیث کو قلم بند کرنے) کی اجازت سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 3035
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَعِيَ حَدِيثَكَ ، وَلَا يَعِيهِ قَلْبِي ، فَأَسْتَعِينُ بِيَمِينِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بلاشبہ میں اس بات کو بے حد پسند کرتا ہوں کہ آپ کے ارشاداتِ گرامی کو (اپنے سینے میں) محفوظ کر لوں، مگر میرا دل انہیں (کما حقہ) یاد نہیں رکھ پاتا، تو کیا میں (ان ارشادات کو قلمبند کرنے کے لیے) اپنے دائیں ہاتھ کی مدد حاصل کروں؟“ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو (تو ایسا کر لو)۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں روایت کیا ہے، جس میں آپ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو احادیثِ مبارکہ لکھنے کی صریح اجازت عطا فرمائی۔