المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ كتابة غَيْرِ القرآن باب: قرآن کے علاوہ کچھ لکھنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : كَتَبْتُ عَنْ أَبِي كِتَابًا ، فَقَالَ أَبِي : لَوْلَا أَنَّ فِيهِ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى لَأَحْرَقْتُهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمِرْكَنٍ أَوْ إِجَّانَةِ نَفْسُهُ ، ثُمَّ قَالَ : عَنِّي عَنِّي ، مَا سَمِعْتَ مِنِّي فَإِنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا ، فَقَالَ : كِدْتَ أَنْ تُهْلِكَ أَبَاكَ .سیدنا ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سن کر (احادیث پر مشتمل) ایک کتاب لکھی، تو میرے والد نے (اسے دیکھ کر) فرمایا: ”اگر اس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کی کوئی آیت نہ ہوتی تو میں یقیناً اسے جلا دیتا۔“ پھر انہوں نے پانی کا ایک لگن یا ٹب منگوایا (تاکہ اس تحریر کو مٹانے کے لیے دھو ڈالیں)، پھر فرمایا: ”(جو یاد کرنا ہے) مجھ سے زبانی یاد کرو، مجھ سے زبانی یاد کرو! جو تم نے مجھ سے سنا ہے اسے (ذہن نشین کرلو)، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے (احادیث کی) کوئی کتاب لکھ کر محفوظ نہیں کی تھی۔“ پھر انہوں نے (خوفِ الہیٰ کے پیشِ نظر) فرمایا: ”تم نے تو اپنے باپ کو ہلاکت کے قریب کر دیا تھا۔“
تخریج: المصنف ابن ابی شیبہ: 3033، اس کی سند طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ کی وجہ سے حسن درجے کی ہے۔