المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ كتابة غَيْرِ القرآن باب: قرآن کے علاوہ کچھ لکھنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ : اكْتُبْ لِي هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : لَا ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ قَالَ : لَا تَكْتُبُوا فَتَتَّكِلُوا ، ثُمَّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَكْتُبُ شَيْئًا مِنَ الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا مُعَاذُ ؟ قُلْنَا : سَمِعْنَاهُ مِنْكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكْفِيكُمْ هَذَا الْقُرْآنُ مِمَّا سِوَاهُ فَمَا كَتَبْنَا شَيْئًا بَعْدُ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں عطاء بن مسلم حلبی نے خبر دی، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن قیس ملائی سے کہا کہ میرے لیے یہ حدیث لکھ دیں، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ”تم لکھا نہ کرو، ورنہ تم (صرف کتابت پر) تکیہ کر بیٹھو گے“۔ پھر ابراہیم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم کچھ احادیث لکھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے معاذ! یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ وہ ارشادات ہیں جو ہم نے آپ سے سنے ہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے یہ قرآن دیگر تمام چیزوں کے مقابلے میں کافی ہے“، چنانچہ اس کے بعد پھر ہم نے کچھ نہیں لکھا۔
یہ روایت منقطع ہے۔