المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ السُّؤَالِ عما لَمْ يَقَعُ باب: غیر واقع شدہ امور کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3030
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَ : أَكَانَ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ أَصْحَابَنَا أَخْبَرُونَا ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : لَا تَسْتَعْجِلُوا بِالْبَلِيَّةِ قَبْلَ نُزُولِهَا وَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .ترجمہ
صلت بن راشد بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام طاؤس رحمہ اللہ سے کسی مسئلے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ واقعہ (حقیقت میں) پیش آ چکا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”بے شک ہمارے رفقا نے ہمیں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ خبر دی ہے کہ انہوں نے فرمایا: «لَا تَسْتَعْجِلُوا بِالْبَلِيَّةِ قَبْلَ نُزُولِهَا» ”تم آزمائش اور مصیبت کے نازل ہونے سے قبل اسے طلب کرنے میں جلدی نہ مچاؤ۔“ اور راوی نے اسی طرح کے کلمات ذکر کیے ہیں، تاہم انہوں نے اس روایت کو نبی کریم ﷺ تک مرفوع بیان نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند حسن ہے۔