المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ السُّؤَالِ عما لَمْ يَقَعُ باب: غیر واقع شدہ امور کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَعْجَلُوا بِالْبَلِيَّةِ قَبْلَ نُزُولِهَا ، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا لَمْ يَنْفَكَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ مَنْ إِذَا قَالَ وُفِّقَ ، أَوْ قَالَ : سُدِّدَ ، وَإِنَّكُمْ إِنِ اسْتَعْجَلْتُمْ بِالْبَلِيَّةِ قَبْلَ نُزُولِهَا ذَهَبَ بِكُمُ السَّبِيلُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا .سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کسی آزمائش اور مصیبت کے نازل ہونے سے قبل ہی اس کے متعلق عجلت پسندی کا مظاہرہ نہ کرو، کیونکہ جب تک تم اس جلد بازی سے بچے رہو گے تو مسلمانوں میں مسلسل ایسے صاحبِ بصیرت افراد موجود رہیں گے کہ جب وہ کوئی بات کریں گے تو انہیں منجانب اللہ درستگی کی توفیق عطا کی جائے گی یا انہیں حق و صواب کی رہنمائی دی جائے گی، لیکن اگر تم نے آزمائش کے آنے سے پہلے ہی اس کے لیے بے صبری دکھائی تو تم مختلف پگڈنڈیوں اور غلط راستوں پر ادھر ادھر بھٹک جاؤ گے۔“
تخریج: سنن الدارمی، حدیث نمبر 3040؛ اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے کیونکہ محمد بن عجلان کا سماع امام طاؤس سے ثابت نہیں ہے۔