المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ السُّؤَالِ عما لَمْ يَقَعُ باب: غیر واقع شدہ امور کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3028
قَالَ : إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : سُئِلَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ ، فَقَالَ : كَانَ هَذَا بَعْدُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : دَعُونَا حَتَّى يَكُونَ ، فَإِذَا كَانَ بَحَثْنَاهَا لَكُمْ .
هَذَا مَوْقُوفٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَهُوَ صَحِيحٌ إِنْ كَانَ الشَّعْبِيُّ سَمِعَ مِنْ عَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ترجمہ
عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے پوچھا: ”کیا یہ واقعہ پیش آ چکا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”ہمیں اس وقت تک (اس سے) رہنے دو جب تک کہ وہ واقعہ رونما نہ ہو جائے، پھر جب وہ وقوع پذیر ہو گا تو ہم تمہارے لیے اس کی تحقیق و جستجو کریں گے۔“
یہ روایت موقوف ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور یہ اس صورت میں صحیح ہے اگر امام شعبی کا سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہو۔